لاء لیٹ کے سلیبس میں اردو سبجیکٹ کے 10 مارکس ایم سی کیوز ہیں ۔ ان نوٹس میں اردو سبجیکٹ کے شارٹ نوٹس بیان کے جا رہے ہیں ۔
History of Urdu Language : اردو زبان کی تاریخ
اردو دوسری زبانوں کے مقابلے میں عمر میں نسبتاً چھوٹی ہے۔ یہ بہت معروف اور مقبول زبان ہے۔ متن کے مطابق اردو بارہویں صدی عیسوی میں پیدا ہوئی۔ تیرہویں صدی میں اردو اپنے پاؤں پر کھڑی ہو گئی۔ ترکی زبان میں “اردو” کے معنی لشکر کے ہیں۔ بعض لوگوں نے اس کے معنی فوجی کیمپ بھی بیان کیے ہیں۔ شاہ جہاں کے زمانے میں دہلی کے ایک بازار کو “اردوئے معلّٰی” کا خطاب دیا گیا۔ ابتدا میں اردو کو لشکری بولی کہا گیا۔
سنسکرت اور پراکرت
- جب آریہ قوم ہندوستان آئی تو ان کی زبان سنسکرت تھی۔
- وقت گزرنے کے ساتھ سنسکرت میں تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔
- اس تبدیل شدہ بولی کو پراکرت کہا گیا۔
- لوگ تقریباً ڈیڑھ ہزار سال تک پراکرت بولتے رہے۔
- بعد میں ایک راجہ نے سنسکرت کو دوبارہ زندہ کیا۔
- سنسکرت کو دیوتاؤں کی زبان سمجھا جاتا تھا۔
- درباری لوگ سنسکرت بولنے لگے۔
- عام لوگ پراکرت ہی بولتے رہے۔
- وقت کے ساتھ پراکرت تبدیل ہو کر برج بھاشا میں تبدیل ہو گئی۔
مسلمانوں کی آمد اور اردو
- مسلمانوں نے ہندوستان میں آ کر اپنی حکومت قائم کی۔
- پہلے پٹھانوں اور پھر مغلوں کی حکومت قائم ہوئی۔
- ان لوگوں کی زبان فارسی تھی۔
- فارسی میں بہت سے عربی اور ترکی الفاظ شامل تھے۔
- مغلوں کے لشکروں میں ہندو اور مسلمان دونوں کام کرتے تھے۔
- اس وجہ سے یہ زبان چھاؤنیوں اور فوجی کیمپوں میں پھیلنے لگی۔
- اسی طرح اس نئی بولی کا نام اردو پڑ گیا۔
قواعد — مختصر نوٹس
قواعد کیا ہیں؟
- قواعد عربی زبان کا لفظ ہے۔
- یہ قاعدہ کی جمع ہے۔
- قواعد کے معنی دستور یا اصول کے ہیں۔
- زبان میں الفاظ اور جملوں کے علم کو قواعد کہتے ہیں۔
- ہر زبان کی بنیاد قواعد پر ہوتی ہے۔
- ہر طالب علم کے لیے قواعد کو سمجھنا ضروری ہے۔
آسان یاد رکھنے کا طریقہ:
قواعد = زبان کے اصول
لفظ
لفظ حروف کے مجموعے کو کہتے ہیں۔
جب ہم حروفِ تہجی کو جوڑتے ہیں تو لفظ بنتا ہے۔
مثالیں:
- ا + ح + م + د = احمد
- پ + ر = پر
- ب + ک + ر + ی = بکری
- ہ + ے = ہے
یعنی:
حروف کو جوڑیں → لفظ بنتا ہے
لفظ کی اقسام
لفظ کی دو قسمیں ہیں:
- کلمہ
- مہمل
کلمہ
بامعنی لفظ کو کلمہ کہتے ہیں۔
یعنی ایسا لفظ جس کا کوئی معنی ہو۔
مثالیں:
- پانی
- قلم
- سودا
- بازار
- لڑکا
یاد رکھیں:
کلمہ = بامعنی لفظ
نوٹ:
جس لفظ کا کوئی واضح مطلب ہو اسے کلمہ کہتے ہیں، جیسے پانی، قلم، بازار اور لڑکا۔
مہمل
ایسا لفظ جس کے اپنے کوئی معنی نہ ہوں لیکن وہ کسی بامعنی لفظ کے ساتھ استعمال ہو، مہمل کہلاتا ہے۔
مثالیں:
- پانی وانی
- سودا سلف
- دانہ دنکا
ان مثالوں میں:
- ولم = مہمل
- وانی = مہمل
- سلف = مہمل
- دنکا = مہمل
مہمل الفاظ کلام یا تحریر میں خوبصورتی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
یاد رکھیں:
مہمل = بے معنی لفظ جو بامعنی لفظ کے ساتھ آئے
کلمے کی اقسام
اردو زبان میں کلمے کی تین اقسام ہیں:
- اسم
- فعل
- حرف
آسان فارمولا:
اسم = نام
فعل = کام
حرف = اسم اور فعل کے ساتھ مل کر معنی واضح کرے
اسم
وہ کلمہ جو کسی:
- شخص
- جگہ
- جانور
- پرندے
- چیز
کا نام ہو، اسم کہلاتا ہے۔
مثالیں:
- احمد
- کراچی
- بلی
- طوطا
- درخت
- میز
یاد رکھیں:
اسم = نام
نوٹ:
کسی شخص، جگہ، جانور، پرندے یا چیز کے نام کو اسم کہتے ہیں۔
فعل
وہ کلمہ جس میں کسی کے کام کرنے یا ہونے کا اظہار ہو، فعل کہلاتا ہے۔
مثالیں:
- لکھتا
- آیا
- بیٹھا
- پڑھنا
- کھیلتا
یاد رکھیں:
فعل = کام یا ہونا
نوٹ:
جس کلمے سے کسی کام کے کرنے یا ہونے کا پتہ چلے اسے فعل کہتے ہیں۔
حرف
وہ لفظ جو:
- کسی کا نام نہ ہو،
- کسی کام کا اظہار نہ کرے،
- بلکہ اسم اور فعل کے ساتھ مل کر معنی واضح کرے،
اسے حرف کہتے ہیں۔
مثال:
طوطا درخت پر بیٹھا ہے۔
اس جملے میں:
- طوطا = اسم
- درخت = اسم
- بیٹھا = فعل
- پر = حرف
لفظ “پر” اسم اور فعل کے ساتھ مل کر جملے کا مطلب واضح کرتا ہے۔
طوطا درخت بیٹھا ہے ❌
طوطا درخت پر بیٹھا ہے ✅
یاد رکھیں:
حرف = دوسرے الفاظ کے ساتھ مل کر معنی واضح کرتا ہے۔
اسم کی اقسام
اسم کی بنیادی طور پر دو قسمیں بیان کی گئی ہیں:
- اسم معرفہ
- اسم نکرہ
اسم معرفہ
اسم معرفہ کو اسمِ خاص بھی کہتے ہیں۔
یہ کسی خاص شخص، جگہ، جانور یا چیز کا نام ہوتا ہے۔
مثالیں:
- احمد
- آبِ زم زم
- کراچی
- مانو بلی
سمجھنے کی مثال:
لڑکا → عام نام
احمد → خاص نام
شہر → عام نام
کراچی → خاص نام
پانی → عام نام
آبِ زم زم → خاص پانی
یاد رکھیں:
اسم معرفہ = خاص نام
اسم معرفہ کی اقسام
اسم معرفہ کی چار اقسام ہیں:
- اسمِ علم
- اسمِ ضمیر
- اسمِ اشارہ
- اسمِ موصول
یاد رکھنے کا فارمولا:
علم + ضمیر + اشارہ + موصول
اسم نکرہ
کسی انسان، چیز، جگہ یا جانور کے عام نام کو اسم نکرہ کہتے ہیں۔
مثالیں:
- لڑکا
- کتاب
- شہر
- بلی
فرق:
| اسم معرفہ | اسم نکرہ |
|---|---|
| احمد | لڑکا |
| کراچی | شہر |
| مانو | بلی |
| آبِ زم زم | پانی |
یاد رکھیں:
اسم معرفہ = خاص نام
اسم نکرہ = عام نام
اسم نکرہ کی اقسام
اسم نکرہ کی چھ اقسام ہیں:
- اسمِ ذات
- اسمِ صفت
- اسمِ استفہام
- اسمِ کنایہ
- اسمِ مصدر
- اسمِ مشتق
آسان یاد رکھنے کا طریقہ:
ذات → صفت → استفہام → کنایہ → مصدر → مشتق
فعل
فعل اس کلمے کو کہتے ہیں جس سے کسی کام کے کرنے یا ہونے کا پتا چلے۔ فعل کا تعلق کسی نہ کسی زمانے سے ہوتا ہے۔
فعل کی زمانے کے لحاظ سے 3 اقسام ہیں:
- زمانہ ماضی
- زمانہ حال
- زمانہ مستقبل
فعل ماضی
وہ کام جو گزرے ہوئے زمانے میں ہو چکا ہو، اسے فعل ماضی کہتے ہیں۔
مثالیں:
- کل احمد اسکول نہیں گیا تھا۔
- زارا نے آم کھایا۔
- ہم دعوت میں گئے تھے۔
- شیر بھاگ گیا تھا۔
پہچان:
کام گزر چکا ہو → فعل ماضی
مثال:
زارا نے آم کھایا۔
یعنی آم کھانے کا کام پہلے ہی ہو چکا ہے۔
فعل حال
وہ فعل جو موجودہ زمانے میں کسی کام کے کرنے یا ہونے کو ظاہر کرے، فعل حال کہلاتا ہے۔
یعنی جو کام ابھی ہو رہا ہو۔
مثالیں:
- احمد اسکول جا رہا ہے۔
- ہم دعوت میں جا رہے ہیں۔
- شیر بھاگ رہا ہے۔
- زارا کام کر رہی ہے۔
پہچان:
کام ابھی ہو رہا ہو → فعل حال
فعل مستقبل
وہ فعل جو آنے والے زمانے میں کسی کام کے ہونے یا کرنے کو ظاہر کرے، فعل مستقبل کہلاتا ہے۔
مثالیں:
- زارا آم کھا ئے گی۔
- ہم دعوت میں جائیں گے۔
- شیر بھاگ جائے گا۔
- احمد اسکول جائے گا۔
پہچان:
کام آئندہ ہونے والا ہو → فعل مستقبل
فعل، فاعل اور مفعول
یہ تینوں جملے کے اہم اجزا ہیں۔
فعل
جو کام کیا جائے۔
فاعل
جو کام کرے۔
مفعول
جس پر کام کیا جائے۔
مثال:
احمد نے کپڑے خریدے۔
- احمد = فاعل
- کپڑے = مفعول
- خریدے = فعل
سوال کر کے پہچانیں:
کس نے کام کیا؟ → فاعل
کیا چیز؟ / کس پر کام ہوا؟ → مفعول
کیا کام کیا؟ → فعل
نوٹ: دیے گئے متن میں اردو جملے کے بارے میں “فاعل، مفعول، فعل” کی ترتیب بیان کی گئی ہے، لیکن عملی جملوں میں یہ ترتیب ہر صورت میں لازمی نہیں ہوتی۔
حروف کی اقسام
دیے گئے متن میں حروف کی درج ذیل اقسام بیان کی گئی ہیں:
- حروفِ امانت
- حروفِ جار
- حروفِ عطف
- حروفِ اضراب
- حروفِ علت
- حروفِ تردید
- حروفِ تنبیہ
- حروفِ ندا
- حروفِ تعجب
- حروفِ انبساط
- حروفِ تاسف
- حروفِ استدراک
- حروفِ تاکید
- حروفِ تمنا
امتحانی نکتہ:
اس حصے میں دیے گئے متن نے زیادہ تر اقسام کے نام فراہم کیے ہیں، تفصیلی تعریفیں یا مثالیں نہیں دی ہیں؛ اس لیے یہاں صرف یہی نام یاد کریں۔
9. کلام
جب دو یا دو سے زیادہ کلمات آپس میں ترکیب پاتے ہیں تو اس مرکب کو کلام کہتے ہیں۔
کلام کی دو اہم قسمیں ہیں:
- کلام ناقص
- کلام تام
کلام ناقص
وہ مرکب جس سے سننے والے کو مکمل مطلب واضح نہ ہو، کلام ناقص کہلاتا ہے۔
مثالیں:
- سعدیہ کے کپڑے۔
- تمہارا قلم۔
ان سے مکمل بات واضح نہیں ہوتی۔
یاد رکھیں:
کلام ناقص = نامکمل مطلب
کلام تام
وہ مرکب جس سے سننے والے کو پورا مطلب سمجھ میں آ جائے، کلام تام کہلاتا ہے۔
مثالیں:
- تمہارا قلم کہاں ہے؟
- سعدیہ کے کپڑے میلے ہیں۔
ان دونوں جملوں سے مکمل مطلب واضح ہو جاتا ہے۔
یاد رکھیں:
کلام تام = مکمل مطلب
12. مرکب ناقص کی اقسام
دیے گئے متن کے مطابق مرکب ناقص کی درج ذیل اقسام ہیں:
- مرکب اضافی
- مرکب توصیفی
- مرکب امتزاجی
- مرکب عددی
- مرکب عطفی
- تابع موضوع
مرکب اضافی
وہ مرکب جو دو کلموں یا اسموں کے درمیان تعلق ظاہر کرے، مرکب اضافی کہلاتا ہے۔
اس میں عموماً کا، کی، کے وغیرہ استعمال ہوتے ہیں۔
مثالیں:
- احمد کی گاڑی
- سعدیہ کا بیٹا
یاد رکھیں:
کا، کی، کے → مرکب اضافی
مرکب توصیفی
وہ مرکب جو صفت اور موصوف سے مل کر بنے، مرکب توصیفی کہلاتا ہے۔
مثالیں:
- میٹھا انار
- رحم دل بادشاہ
یہاں:
میٹھا → صفت
انار → موصوف
یاد رکھیں:
صفت + موصوف = مرکب توصیفی
مرکب امتزاجی
جب دو یا زیادہ کلمے مل کر ایک اسم بناتے ہیں تو اسے مرکب امتزاجی کہتے ہیں۔
مثالیں:
- گلشن اقبال
- حیدر علی
یاد رکھیں:
دو یا زیادہ کلمے + ایک اسم → مرکب امتزاجی
مرکب عددی
وہ مرکب جو عدد اور معدود سے مل کر بنے، مرکب عددی کہلاتا ہے۔
مثالیں:
- دو روٹیاں
- چار لڑکے
یہاں:
دو، چار = عدد
روٹیاں، لڑکے = معدود
یاد رکھیں:
عدد = گنتی بتانے والا
معدود = جس کی گنتی کی جائے
مرکب عطفی
وہ مرکب جو حرفِ عطف کے ذریعے دو الفاظ کو ملانے سے بنے، مرکب عطفی کہلاتا ہے۔
اہم حرفِ عطف:
اور
یاد رکھیں:
حرفِ عطف → مرکب عطفی
تابعِ موضوع
اس مرکب میں بعض اوقات بامعنی الفاظ کے ساتھ محاورے یا قافیہ کے لحاظ سے مزید لفظ بڑھا دیا جاتا ہے۔
مثالیں:
- چال ڈھال
- رونا دھونا
ان مثالوں میں ڈھال اور دھونا اپنے مکمل معنی نہیں دے رہے بلکہ پہلے الفاظ کے ساتھ استعمال ہو رہے ہیں۔
مسند اور مسندالیہ
مسندالیہ
جملے میں جس شخص یا چیز کے بارے میں کچھ کہا جائے اسے مسندالیہ کہتے ہیں۔
مسند
جملے میں جو کچھ کہا جائے اسے مسند کہتے ہیں۔
مثال 1:
سعدیہ پڑھتی ہے۔
- سعدیہ = مسندالیہ
- پڑھتی ہے = مسند
محاورات
محاورہ کیا ہے؟
محاورہ لغت میں بول چال اور بات چیت کو کہتے ہیں، جبکہ اصطلاح میں ایسے خاص الفاظ یا جملے کو محاورہ کہتے ہیں جو اپنے حقیقی معنی کے بجائے مجازی معنی میں استعمال ہوں۔
مثال:
- روٹی کھائی → حقیقی معنی
- قسم کھائی → مجازی معنی
| محاورہ | آسان معنی |
|---|---|
| آگ بگولا ہونا | بہت زیادہ غصے میں آنا |
| پانی پانی ہونا | شرمندہ ہونا |
| جی چرانا | ہمت نہ کرنا |
| کتاب کا کیڑا ہونا | ہر وقت کتابیں پڑھنا |
| آسمان سر پر اٹھانا | بہت شور مچانا |
| بال کی کھال نکالنا | معمولی بات کی بہت زیادہ تفصیل نکالنا |
| ٹس سے مس نہ ہونا | اپنی جگہ سے نہ ہٹنا / بات پر قائم رہنا |
| جنگل میں منگل ہونا | سنسان جگہ پر خوشی اور رونق ہونا |
| خون سفید ہونا | رشتوں کی محبت ختم ہو جانا |
| چار چاند لگانا | خوبصورتی یا شان بڑھانا |
| دم دبا کر بھاگنا | ڈر کر بھاگ جانا |
| سر آنکھوں پر | خوشی سے قبول کرنا |
| شیطان کی آنت | بہت لمبی یا نہ ختم ہونے والی چیز |
| محاورہ | آسان معنی |
|---|---|
| تری آواز مکے اور مدینے | مبارکباد، شکریہ یا دعا دینا |
| تگنی کا ناچ نچا دینا | بہت زیادہ پریشان کرنا |
| تل اوٹ، پہاڑ اوٹ | نظروں سے اوجھل ہوتے ہی جلد بھول جانا |
| تل دھرنے کی جگہ نہ ہونا | بہت زیادہ رش ہونا |
| تلوار کا زخم بھر جاتا ہے، بات کا نہیں | بات کا دکھ آسانی سے ختم نہیں ہوتا |
| تمھارے نیوتے کبھی نہیں کھائے | صرف باتیں کرنا، کام کے وقت کچھ نہ کرنا |
| تم روٹھے، ہم چھوٹے | تم ناراض ہوئے تو ہمارا تعلق ختم |
| تم اپنے حال میں مست، ہم اپنی کھال میں مست | ہر شخص اپنی زندگی میں خوش ہے |
| تن سکھی تو من سکھی | جسم صحت مند ہو تو دل بھی خوش رہتا ہے |
| تن پر نہیں لتّا، مسّی ملے البتہ | غربت کے باوجود دکھاوے کا شوق |
| ٹاٹ کا لنگوٹ، نواب سے یاری | غریب ہو کر بڑے لوگوں سے دوستی کا دعویٰ کرنا |
| ٹائیں ٹائیں فِش | شور بہت ہو مگر نتیجہ کچھ نہ نکلے |
| ٹٹ پونجیا | بہت غریب شخص |
| ٹٹو کو کوڑا اور تازی کو اشارہ | عقلمند کو اشارہ ہی کافی ہوتا ہے |
| ٹکسال باہر | غیر مستند یا رواج کے خلاف |
| ثابت نہیں کان، بالیوں کا ارمان | صلاحیت کم مگر خواہشیں بہت بڑی |
| ثواب نہ عذاب، کمر ٹوٹی مفت میں | محنت کے باوجود کوئی فائدہ نہ ہونا |
| جان بچی اور لاکھوں پائے | جان بچ جانا بہت بڑی کامیابی ہے |
| جان ہے تو جہان ہے | زندگی ہے تو سب کچھ ہے |
| جان نہ پہچان، بی بی جی سلام | بغیر جان پہچان کے تعلق یا فائدے کی امید رکھنا |
| جا کو راکھے سائیاں، مار سکے نہ کوئے | اللہ کی حفاظت ہو تو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا |
| جاٹ کی بیٹی برہمن کے گھر آئی | کم حیثیت شخص کو بڑے لوگوں کی صحبت ملنا |
| چاندی کی ریت نہیں، سونے کی توفیق نہیں | چھوٹا تحفہ مناسب نہیں اور بڑا خریدنے کی استطاعت نہیں |
| چار دن کی چاندنی، پھر اندھیری رات | خوشی یا دولت ہمیشہ نہیں رہتی |
| چادر دیکھ کر پاؤں پھیلاؤ | اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرو |
| چار ابرو صاف | دنیاوی تعلقات چھوڑ دینا |
| چاند پر تھوکنا | بڑے شخص کی برائی کرنے کا نقصان خود کو ہوتا ہے |
| حاتم طائی کی قبر پر لات مارنا | معمولی احسان کرکے بہت بڑا احسان جتانا |
| حاکم کی اگاڑی اور گھوڑے کی پچھاڑی سے بچنا | خطرناک جگہ یا صورتِ حال سے بچنا |
| حاکم کے تین اور شحنہ کے نو | ماتحت زیادہ حصہ لے جاتے ہیں |
| حال کا نہ قال کا، روٹی اور دال کا | ناکارہ اور خود غرض شخص |
| حرام کا مال گلے میں اٹکے | ناجائز مال سکون نہیں دیتا |
| خاک نہ دھول، بکائن کے پھول | بالکل بے فائدہ بات |
| خالہ جی کا گھر نہیں ہے | کام اتنا آسان نہیں جتنا سمجھا جا رہا ہے |
| خالی دماغ شیطان کی کارگاہ | بیکار دماغ میں فضول خیالات آتے ہیں |
| خالی ہاتھ منہ کو نہیں جاتا | فائدے کے بغیر کوئی کام نہیں کرتا |
| خدا کو دیکھا نہیں، عقل سے تو پہچانا ہے | اللہ کی قدرت سے اس کا وجود پہچانا جا سکتا ہے |
| دانتوں پسینہ آنا | بہت مشکل کام کرنا |
| داشتہ آید بکار | محفوظ رکھی ہوئی چیز کبھی کام آتی ہے |
| دائی سے کیا پیٹ چھپانا | راز متعلقہ شخص سے نہیں چھپایا جا سکتا |
| دال میں کالا ہونا | کسی کام میں شک ہونا |
| دانہ دانہ پر مہر لگی ہے | ہر شخص کو اپنا مقررہ رزق ملتا ہے |
| ڈنکے کی چوٹ | کھلم کھلا، سب کے سامنے |
| ڈوبتے کو تنکے کا سہارا | مشکل وقت میں معمولی مدد بھی اہم ہوتی ہے |
| ڈوبے کٹورا، پٹے گھڑیال | غلطی ایک کرے، سزا کسی دوسرے کو ملے |
| ڈھول کے اندر پول | ظاہری شان بہت، حقیقت میں کچھ نہیں |
| ڈھلمل یقین | ایک بات پر قائم نہ رہنے والا |
| زبان آج کھلی ہے، کل بند | زندگی کا کوئی بھروسا نہیں |
| زبانِ خلق کو نقارۂ خدا سمجھو | لوگوں کی اکثریت کی بات کو اہم سمجھنا |
| زبان پر کانٹے پڑ گئے | سخت پیاس لگنا |
| زبانی جمع خرچ | صرف باتیں کرنا، عمل نہ کرنا |
| زبان سے نکلی، آسمان پر چڑھی | کہی ہوئی بات واپس نہیں لی جا سکتی |
| سانچ کو آنچ نہیں | سچ کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا |
| ساون ہرے نہ بھادوں سوکھے | حالت ہمیشہ ایک جیسی رہنا |
| سات ماموؤں کا بھانجا بھوکا رہتا ہے | کام کئی لوگوں پر چھوڑنے سے کام نہیں ہوتا |
| ساون کے اندھے کو ہرا ہی ہرا سوجھتا ہے | انسان اپنے حالات کے مطابق سوچتا ہے |
| سانپ نکل گیا، اب لکیر پیٹ رہے ہیں | وقت گزرنے کے بعد کوشش کرنا بے فائدہ ہے |
| شام کے مرے کو کہاں تک روئیے | ہر وقت غم نہیں کیا جا سکتا |
| شترِ بے مہار | بے قابو شخص |
| شملہ بقدر علم | ظاہری چیز سے علم کا اندازہ لگانا؛ طنزیہ انداز |
| صاد کر دیا | دعوت قبول کرنے کی تصدیق کرنا |
| کہاوت | آسان معنی |
|---|---|
| صبح کا بھولا شام گھر آئے تو اسے بھولا نہیں کہتے | اپنی غلطی مان کر اصلاح کرنا اچھی بات ہے۔ |
| صحیح گئے، سلامت آئے | جیسے گئے تھے ویسے ہی واپس آ گئے۔ |
| صورت نہ شکل، بھاڑ میں سے نکل | بہت بدصورت شخص کے لیے کہا جاتا ہے۔ |
| طاق پہ بیٹھا الو، بھر بھر مانگے چلّو | نااہل شخص کو اختیار مل جائے تو وہ اہل لوگوں پر حکم چلاتا ہے۔ |
| طباقی کتا | مفت کھانے کی تلاش میں اِدھر اُدھر پھرنے والا شخص۔ |
| طشت از بام | بات بالکل واضح اور سب پر ظاہر ہونا۔ |
| ظالم کی رسی دراز | ظالم کو کچھ عرصہ مہلت ملتی ہے، مگر آخرکار سزا ملتی ہے۔ |
| ظالم کی داد خدا کے گھر | ظالم کو آخرکار اللہ کی طرف سے سزا ملتی ہے۔ |
| عشق است و ہزار بدگمانی | عشق بہت سی بدگمانیاں پیدا کرتا ہے۔ |
| عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے | عشق اور خوشبو چھپائے نہیں جا سکتے۔ |
| عقل مند ایک ہی سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا | عقلمند ایک غلطی دوبارہ نہیں کرتا۔ |
| غرور کا سر نیچا | مغرور شخص کا آخرکار غرور ٹوٹ جاتا ہے۔ |
| غرض نکلی، آنکھ بدلی | مطلب پورا ہوتے ہی انسان کا رویہ بدل جاتا ہے۔ |
| غرض کے وقت گدھے کو بھی باپ بنا لیتے ہیں | مطلب کے لیے انسان کسی سے بھی تعلق بنا لیتا ہے۔ |
| فارسی ہے تو واہ واہ | بغیر سمجھے کسی چیز کی تعریف کرنا۔ |
| فرعونِ بے سامان | بے حیثیت مگر بہت مغرور شخص۔ |
| فقیر چلا جاتا ہے اور کتے بھونکتے رہ جاتے ہیں | دوسروں کے شور کی پروا کیے بغیر اپنے کام پر توجہ دینا۔ |
| قاضی دبلے کیوں، شہر کے اندیشے سے | بڑی ذمہ داری والا شخص فکر مند رہتا ہے۔ |
| قاضی کے گھر کے چوہے بھی سیانے | چالاک شخص کے گھر کے لوگ بھی چالاک ہوتے ہیں۔ |
| قافیہ تنگ ہے | بات سمجھ نہ آنا یا نیا خیال نہ سوجھنا۔ |
| کان پڑی آواز سنائی نہ دینا | بہت شور ہونا، جس سے بات سنائی نہ دے۔ |
| کانی کوڑی کا بھی نہیں | بالکل بے وقعت ہونا۔ |
| کانوں کان خبر نہ ہونا | کسی کو بالکل خبرنہ ہونا |
مترادف الفاظ کیا ہیں؟
مترادف الفاظ ایسے الفاظ کو کہتے ہیں جو ہم معنی ہوں، یعنی جن کے معنی ایک جیسے یا تقریباً ایک جیسے ہوں۔
آسان الفاظ میں:
ایسے الفاظ جو لکھنے میں مختلف ہوں لیکن ان کا مطلب ایک جیسا ہو، مترادف الفاظ کہلاتے ہیں۔
مثال
- خوش = مسرور
- غم = دکھ
- گھر = مکان
یعنی مختلف الفاظ استعمال کرنے کے باوجود جملے کا بنیادی مطلب تقریباً ایک ہی رہتا ہے۔
| الفاظ | مترادف |
|---|---|
| الٰہ | معبود |
| چشم | دیدہ، عین |
| آنکھ | دیدہ |
| دنیا | جہاں |
| شب | لیل |
| گلستان | گلزار |
| راستہ | جادہ |
| فردوس | خلد |
| بہشت | جنت |
| حزن | ملال |
| کمزور | لاغر |
| عالم | کائنات |
| دن | یوم |
| جدائی | فراق |
| ثمر | پھل |
| بار | بر |
| تند | تیز |
| کلام | سخن |
| نظم | نسق |
| تیغ | سیف |
| روز | نہار |
| ماہ | مہ |
| ضو | نور |
| صراط | طریق |
| چمن | باغ |
| زمانہ | عہد |
| غم | الم |
| چاند | قمر |
| زیب | زینت |
| ایجاب | قبول |
| فرقت | مہجوری |
| شہد | عسل |
| بود | باش |
| چھل | فریب |
| حدیث | بات |
| وعدہ | عہد |
| کاہل | سست |
| ابد | ہمیشہ |
| نس | رگ |
| اجالا | روشنی |
| تغیر | تبدل |
| عہد | پیمان |
| رنج | فکر |
| قلب | دل |
| ممد | معاون |
| عقل | سمجھ |
| شمشیر | تلوار |
| جود | کرم |
| ضعیف | کمزور |
| پستی | تنزل |
| مستحکم | پائیدار |
| جڑ | اصل |
| ساتھی | رفیق |
| قہر | غضب |
| لہو | لعب |
| محرم | واقف |
| قطع | برید |
| قصر | محل |
| کثرت | بہتات |
| حزن | اندوہ |
| ناتواں | نحیف |
| پرانا | کہنہ |
| خرد | ادراک |
| صلہ | بدلہ |
| دکھ | الم |
| شرح | تشریح |
| ملکہ | مہارت |
| ہوا | صبا |
| مدح | تعریف |
| دوبارہ | مکرر |
| مال | دولت |
| سد | دیوار |
| حکم | فرمان |
| جنگ | بن |
| کال | قحط |
| گھات | تاک |
| رہان | دلیل |
| عبد | بندہ |
| اثم | گناہ |
| باہر | بیرون |
| منہ | دہان |
| دھند | کہر |
| عورت | زن |
| نام | اسم |
| عیال | اولاد |
| گمان | ضن |
| مقرر | مامور، معین |
| بے باک | نڈر |
| قسمت | مقدر |
| محبت | حب |
| کوہ | پربت |
| حکمت | دانائی |
| بادشاہ | ملک |
| اجر | ثواب |
| بن | بغیر |
| بزم | محفل |
| برا | مذموم |
| شمس | خورشید |
| آرزو | تمنا |
| قاصد | ایلچی |
| بحر | پانی |
| سورج | مہر |
| سانس | نفس |
| کام | فعل |
| آفتاب | خورشید |
| واضح | صریح |
| آواز | صدا |
| تمام | کل |
| جور | ظلم |
| برائی | ذم |
| بایاں | چپ |
| اختر | انجم |
| تنخواہ | مشاہرہ |
| زمانہ | دور |
| گردوں | چرخ |
| زوجہ | اہلیہ |
| حلاوت | شیرینی |
| شرمسار | نادم |
| سحر | طلسم |
| تاجدار | تاجور |
| کنار | کراں |
| کدہ | خانہ |
| سہو | چوک |
| رشتہ | ناتا |
| حکایت | کہانی |
| شجر | پیڑ |
| زاہد | متقی |
| راغب | مائل |
| سخن گو | سخن ور |
| صلح | آشتی |
| جام | ساغر |
| سخن شناس | سخن فہم |
| حدت | تپش |
| تحمل | بردباری |
| تجسس | جستجو |
| علم | پرچم |
| قلب | دل |
| خسارا | ٹوٹا |
| زہد | تقویٰ |
| شجاع | دلاور، بہادر |
| حلق | حلقوم |
| ذلت | رسوا |
| کبر | نخوت |
| افزونی | زیادتی |
| درح | تعریف |
| گنج | خزینہ |
| نغمہ | سرور |
| فصل | رت |
| مسرت | شادمانی |
| قصد | عزم |
| مدح | ستائش |
| ظلمت | تاریکی |
| گوہر | در |
| عسرت | تنگدستی |
| ضیافت | دعوت |
| گنجینہ | خزانہ |
| قصر | ایوان |
| عیال | اولاد |
1. متضاد الفاظ
تعریف:
ایسے الفاظ جو ایک دوسرے کے الٹ یا ضد ہوں، متضاد الفاظ کہلاتے ہیں۔
مثالیں:
- رات = دن
- صبح = شام
- آزادی = غلامی
- رئیس = غریب
- تاریک = روشن
- زبردست = زیردست
اہم متضاد الفاظ
| لفظ | متضاد |
|---|---|
| گزشتہ | آئندہ |
| آغاز | انجام |
| یاس | آس |
| غلامی | آزادی |
| غلام | آزاد |
| برباد | آباد |
| خفیہ | علانیہ |
| گراں | ارزاں |
| گندہ | اجلا |
| اعلیٰ | ادنیٰ |
| چڑھاؤ | اتار |
| ازل | ابد |
| زرخیز | بنجر |
| پست | بلند |
| قریب | بعید |
| بحری | بری |
| بر | بحر |
| جنگ | امن |
| شیریں | تلخ |
| تحریر | تقریر |
| تنزلی | ترقی |
| روشن | تاریک |
| جوان | پیر |
| قبح | حسن |
| حلال | حرام |
| رقیب | حبیب |
| غائب | حاضر |
| علم | جہالت |
| شرک | توحید |
| رنج | راحت |
| چھاؤں | دھوپ |
| دشمن | دوست |
| برآمد | درآمد |
| بیدار | خوابیدہ |
| جلوت | خلوت |
| آخر | اول |
| پستی | اوج |
| اجالا | اندھیرا |
| جرمانہ | انعام |
| زیر | زبر |
| رہزن | رہبر |
| غروب | طلوع |
| جنگ | صلح |
| کذب | صدق |
| خوشحالی | بدحالی |
| فانی | باقی |
| کفر | ایمان |
| ثواب | عذاب |
| دائمی | عارضی |
| نور | ظلمت |
| عدل | ظلم |
| باطن | ظاہر |
| عادل | ظالم |
| منفی | مثبت |
| روحانی | جسمانی |
| سزا | جزا |
| قدیم | جدید |
| رات | دن |
| طول | عرض |
| امارت | غربت |
| مغلوب | غالب |
| ہوشیار | غافل |
| ذلت | عزت |
| وفا | جفا |
| نقلی | اصلی |
| خار | گل |
| زوال | کمال |
| کثرت | قلت |
| مصنوعی | قدرتی |
| شکست | فتح |
| فقیری | شاہی |
| گدا | شاہ |
| ناشاد | شاد |
| بے ڈول | سڈول |
| متحرک | ساکن |
| دستیاب | نایاب |
| گمنام | نامور |
| دانا | نادان |
| مغموم | مسرور |
| نقل | اصل |
| شرارت | شرافت |
| بیگانہ | یگانہ |
| یقین | وہم |
| مہذب | وحشی |
| عدم | وجود |
| نقصان | نفع |
| فراز | نشیب |
2. مذکر اور مؤنث
مذکر
نر جنس والے اسم کو مذکر کہتے ہیں۔
مثالیں:
باپ، ابا، بیل، بیٹا
مؤنث
مادہ جنس والے اسم کو مؤنث کہتے ہیں۔
مثالیں:
ماں، اماں، گائے، بیٹی
اسمِ مشترک
ایسا اسم جو مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے استعمال ہو، اسمِ مشترک کہلاتا ہے۔
مثالیں:
یتیم، مسافر، کھلاڑی، ساتھی، مہمان، وزیر، دوست، دشمن
3. حقیقی اور غیر حقیقی تذکیر و تانیث
حقیقی تذکیر و تانیث
جانداروں میں نر اور مادہ کا قدرتی فرق ہو تو اسے حقیقی تذکیر و تانیث کہتے ہیں۔
مثالیں:
- مرد — عورت
- بیل — گائے
- باپ — ماں
غیر حقیقی تذکیر و تانیث
بے جان چیزوں میں مذکر اور مؤنث کا فرق اہلِ زبان کے استعمال پر ہوتا ہے۔
مثالیں:
- قلم — مذکر
- گیند — مؤنث
4. مذکر اور مؤنث کے اہم اصول
- دنوں اور مہینوں کے نام عموماً مذکر ہیں، لیکن جمعرات مؤنث ہے۔
- آوازوں کے نام مؤنث ہوتے ہیں۔
- زبانوں کے نام مؤنث ہوتے ہیں۔
مثال: اردو، عربی، فارسی، انگریزی - نمازوں کے نام مؤنث ہوتے ہیں۔
مثال: فجر، ظہر، عصر، مغرب، عشاء - زیادہ تر دھاتوں اور جواہرات کے نام مذکر ہیں۔
مثال: سونا، لوہا، تانبا، پیتل، ہیرا
چاندی اور قلعی مؤنث ہیں۔ - سیاروں کے نام مذکر ہیں۔
مثال: مریخ، عطارد، زحل، مشتری
زمین مؤنث ہے۔ - پہاڑوں، سمندروں اور دریاؤں کے نام مذکر ہیں، جبکہ گنگا اور جمنا مؤنث ہیں۔
- ملکوں، شہروں اور براعظموں کے نام مذکر ہیں۔
مثال: پاکستان، لاہور، ایشیا
5. مذکر سے مؤنث بنانے کے طریقے
اصول 1: آخر کا “ا” یا “ہ” تبدیل کرکے ” ی ” لگا کر مذکر سے مونث میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
| مذکر | مؤنث |
|---|---|
| بیٹا | بیٹی |
| بچہ | بچی |
| بھانجا | بھانجی |
| پوتا | پوتی |
| دادا | دادی |
| چچا | چچی |
| پھوپھا | پھوپھی |
| شہزادہ | شہزادی |
| ہمسایہ | ہمسائی |
| نانا | نانی |
| نواسا | نواسی |
| کنوارا | کنواری |
| صاحبزادہ | صاحبزادی |
| گندہ | گندی |
اصول 2: “ن” لگا کر مؤنث
| مذکر | مؤنث |
|---|---|
| بھکاری | بھکارن |
| بنگالی | بنگالن |
| بڑھئی | بڑھائن |
| پجاری | پجارن |
| پارسی | پارسن |
| بھنگی | بھنگن |
| تیلی | تیلن |
| پنجابی | پنجابن |
| پڑوسی | پڑوسن |
| چودھری | چودھرائن |
| جوگی | جوگن |
| دھوبی | دھوبن |
| دلہا | دلہن |
| حلوائی | حلوائن |
| سنار | سنارن |
| سمدھی | سمدھن |
| قصائی | قصائن |
| فرنگی | فرنگن |
| گوالا | گوالن |
| مالی | مالن |
| موچی | موچن |
| یہودی | یہودن |
| نائی | نائن |
اصول 3: “نی” یا “انی” لگا کر مؤنث میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
| مذکر | مؤنث |
|---|---|
| ٹھگ | ٹھگنی |
| پنڈت | پنڈتانی |
| استاد | استانی |
| مہاراجا | مہارانی |
| مغل | مغلانی |
| جادوگر | جادوگرنی |
| ڈوم | ڈومنی |
| دیور | دیورانی |
| جیٹھ | جیٹھانی |
| نٹ | نٹنی |
| مہتر | مہترانی |
| راجا | رانی |
| شیخ | شیخانی |
| سید | سیدانی |
| سکھ | سکھنی |
| ہندو | ہندنی |
| نوکر | نوکرانی |
| فقیر | فقیرنی |
6. عربی الفاظ کی تذکیر و تانیث
عربی الفاظ میں عموماً مذکر کے آخر میں “ہ” لگا کر مؤنث بنایا جاتا ہے۔
| مذکر | مؤنث |
|---|---|
| صاحب | صاحبہ |
| شاعر | شاعرہ |
| سلطان | سلطانہ |
| عزیز | عزیزہ |
| طالب | طالبہ |
| ضعیف | ضعیفہ |
| محبوب | محبوبہ |
| مالک | مالکہ |
| عالم | عالمہ |
| مکرم | مکرمہ |
| معلم | معلمہ |
| مریض | مریضہ |
| والد | والدہ |
| وارث | وارثہ |
| ملک | ملکہ |
7. حیوانات کی تذکیر و تانیث
| مذکر | مؤنث |
|---|---|
| بندر | بندریا |
| بچھڑا | بچھیا |
| اونٹ | اوٹنی |
| بھینسا | بھینس |
| بھوت | بھتنی |
| بیل | گائے |
| چیونٹا | چیونٹی |
| چوہا | چوہیا |
| چڑا | چڑیا |
| گدھا | گدھی |
| کتا | کتیا |
| شیر | شیرنی |
| مینڈک | مینڈکی |
| مور | مورنی |
| مرغا | مرغی |
| ہاتھی | ہتھنی |
| ناگ | ناگن |
| مینڈھا | بھیڑ |
Read Also: LAT English and Urdu Essays